Ayat e Tatheer | Rijs Ki Tashreeh o Tafseer | Taharat o Shaan e Ahl e Bait (A.S) | Dr Tahir-ul-Qadri



Ayat e Tatheer | Ar Rijs Ki Tashreeh o Tafseer | Taharat o Shaan e Ahl e Bait (A.S)
آیتِ تطہیر الرِّجْس‘ کی تشریح و تفسیر | طہارت و شانِ اہلبیتؑ
The Interpretation and Exegesis of Ar Rijs in the Verse of Purification | The Purity and Eminence of the Ahl al Bayt (A.S)
Shaykh-ul-Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri

This video explains that Rijs encompasses everything that a sound and wholesome human nature dislikes, sound reason rejects, or Islamic law disapproves of. In light of the exegetical statement of Imam Mujahid (R.A), it is further explained that anything devoid of goodness may also fall within the meaning of Rijs. The video explores the different dimensions of Rijs, including natural and instinctive Rijs, intellectual Rijs, and religious or Shariah based Rijs. Qualities such as injustice, lying, betrayal, arrogance, ingratitude, miserliness, envy, hatred, and other moral evils are described as intellectually objectionable. It is explained that the purification mentioned in Ayat al Tatheer (the Verse of Purification) provides a comprehensive expression of the elevated status and rank of the Ahl al Bayt of the Prophet ﷺ. The video further explains that shirk (polytheism), disbelief, hypocrisy, sins and disobedience, spiritual impurity, intellectual deviation, uncontrolled desires, satanic whispers, diseases of the heart, moral degradation, and weakness in faith can also fall within the broader meaning of Rijs.

Key Takeaways
1. The meaning of Rijs is not limited to physical impurity or outward filth.
2. Anything rejected by sound human nature, sound reason, or Islamic law can fall within the meaning of Rijs.
3. Doubts and uncertainty concerning truth and religion, as well as intellectual confusion, are also described as forms of Rijs.
4. Moral evils such as injustice, lying, betrayal, arrogance, envy, hatred, and miserliness are considered forms of intellectual Rijs.

اس ویڈیو میں بیان کیا گیا ہے کہ رِجس ہر اُس چیز کو شامل ہے جسے فطرتِ سلیمہ ناپسند کرے، عقلِ صحیح قبول نہ کرے یا شریعت مسترد کر دے۔ حضرت مجاہد رحمہ اللہ کے تفسیری قول کی روشنی میں اس نکتے کی وضاحت بھی کی گئی ہے کہ ہر وہ چیز جو خیر سے خالی ہو، وہ بھی رِجس کے مفہوم میں داخل ہو سکتی ہے۔ مزید ویڈیو میں رِجس کی مختلف جہات کو واضح کرتے ہوئے طبعی و فطری رِجس، عقلی رِجس اور شرعی رِجس کی تشریح کی گئی ہے۔ ظلم، جھوٹ، خیانت، تکبر، ناشکری، بخل، حسد، بغض اور اخلاقی برائیوں جیسی صفات کو عقلی اعتبار سے ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ آیتِ تطہیر میں بیان کردہ پاکیزگی اہلِ بیتِ نبوی علیہم السلام کے مقام و مرتبے کی ایک نہایت جامع تعبیر پیش کرتی ہے۔ مزید یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ شرک، کفر، نفاق، گناہ و معصیت، روحانی آلودگی، فکری انحراف، نفسانی خواہشات، شیطانی وسوسے، قلبی بیماریاں، اخلاقی پستی اور اعتقادی کمزوری جیسے امور بھی رِجس کے وسیع مفہوم میں آتے ہیں۔
اہم حاصلات
1 – رِجس کا مفہوم صرف ظاہری نجاست یا گندگی تک محدود نہیں۔
2 – ہر وہ چیز جسے فطرتِ سلیمہ، عقلِ صحیح یا شریعت ناپسند کرے، رِجس کے مفہوم میں آ سکتی ہے۔
3 – حق اور دین کے متعلق شک و شبہ اور فکری اضطراب بھی رِجس کی ایک صورت کے طور پر بیان کیے گئے ہیں۔
4 – ظلم، جھوٹ، خیانت، تکبر، حسد، بغض اور بخل جیسی اخلاقی برائیاں عقلی رِجس میں شمار ہوتی ہیں۔

————————-
For Complete ▶️ Speech:
————————-

🎦 Most Popular Videos:
▶️ Short Clips:

————————-

👉 Stay informed. Follow Dr. Tahir-ul-Qadri’s social media channels.

🔔 Subscribe:
► Facebook:
► TikTok:
► Instagram:
► Threads:
► Twitter:
► Sound Cloud:
► WhatsApp:
► DailyMotion:
► Vimeo:
► MinhajTV:

————————-

#TahirulQadri #AyatETatheer #AhlulBayt #AhlEBayt #QuranAndAhlulBayt #Islam #Quran #MinhajulQuran #EducationforAll #PeaceforHumanity

source

31 Comments

  1. فطرتِ سلیمہ، عقلِ صحیح اور شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں ’’رِجس‘‘ کا مفہوم نہایت گہرا اور وسیع ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے اس اہم قرآنی اصطلاح کی تشریح نہایت جامع، مدلل اور خوبصورت انداز میں بیان کی ہے۔
    رِجس صرف ظاہری گندگی کا نام نہیں بلکہ ہر وہ قول، عمل، فکر، رویہ اور باطنی کیفیت جو انسان کی فطرتِ سلیمہ، عقلِ صحیح اور شریعت کے اصولوں کے خلاف ہو، رِجس کے مفہوم میں شامل ہو سکتی ہے۔
    قرآن و سنت کی تعلیمات ہمیں دعوت دیتی ہیں کہ انسان اپنے ظاہر کے ساتھ ساتھ اپنے باطن کو بھی پاکیزہ بنائے، کیونکہ حقیقی طہارت پاکیزہ فکر، درست کردار اور صالح عمل سے عبارت ہے۔ فطرتِ سلیمہ، عقلِ صحیح اور شریعتِ مطہرہ سے ہم آہنگ زندگی ہی انسان کو فکری، اخلاقی اور روحانی پاکیزگی کی طرف لے جاتی ہے۔

  2. ❤ماشاءاللہ سبحان اللہ العظیم بےشک ❤
    بہت اعلٰی فکر انگیز ایمان افروز خطاب خوبصورت راہنمائی، اللّٰہ پاک ہمیشہ سلامت رکھے آمین

  3. قرآنِ مجید کی آیتِ تطہیر کی ایسی جامع تشریح جو علم، عقیدت اور معرفت تینوں کو یکجا کرتی ہے۔ قابلِ سماعت بیان۔

  4. رِجس کے اخلاقی اور روحانی پہلوؤں کی وضاحت نے آیتِ تطہیر کے مفہوم کو مزید واضح کر دیا۔ ماشاءاللہ۔

  5. یہ بیان صرف معلومات نہیں دیتا بلکہ انسان کو اپنے کردار اور باطن کا جائزہ لینے کی دعوت بھی دیتا ہے۔ بہت عمدہ۔

  6. اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی طہارت و پاکیزگی کا بیان ایمان اور محبتِ اہلِ بیت کو مزید مضبوط کرنے والا ہے۔

  7. فطرتِ سلیمہ، عقلِ صحیح اور شریعت کی روشنی میں رِجس کی تشریح بہت خوبصورت انداز میں بیان کی گئی ہے۔ جزاکم اللہ خیراً۔

  8. آیتِ تطہیر کو سمجھنے کے لیے رِجس کے مختلف مفاہیم جاننا بہت ضروری ہے۔ نہایت جامع اور علمی گفتگو۔

  9. ظلم، جھوٹ، تکبر، حسد اور خیانت جیسی برائیاں بھی رِجس کے وسیع مفہوم میں شامل ہیں، یہ نکتہ واقعی قابلِ غور ہے۔

  10. اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی شان اور آیتِ تطہیر کی حقیقت کو اس انداز میں سمجھانا علم میں اضافہ بھی ہے اور دل کے لیے باعثِ عقیدت بھی۔

  11. رِجس کا مفہوم صرف ظاہری نجاست نہیں بلکہ فکری، اخلاقی اور روحانی آلودگی بھی اس میں شامل ہے۔ بہت فکر انگیز وضاحت۔

  12. آیتِ تطہیر کی یہ علمی تشریح اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کے مقام و مرتبے کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ ماشاءاللہ بہت خوبصورت بیان۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You might like

© 2026 Cantinho do Vídeo - WordPress Video Theme by WPEnjoy